2 دسمبر 2012 - 20:30

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے بروکنگز انسٹی ٹیوٹ (Brookings Institution) میں امریکہ اور یورپ کے تعلقات کے جائزے کے موضوع پر تقریر کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ ایران کی ایٹمی سرگرمیاں اس کے ہمسایوں اور عالمی برادری کے لۓ خطرناک ہیں۔

ابنا: ہلیری کلنٹن نے اپنی تقریر میں ایران مخالف پابندیوں میں شدت کو بھی نیٹو کے دائرۂ کار میں یورپی یونین کے ساتھ امریکہ کے کامیاب تعاون کی ایک مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ چار سال قبل شدید اقتصادی بحران کے دوران یورپ اس بات کی جانب متوجہ ہوا کہ ایران پر دباؤ ڈالنے کے لۓ اس کے تیل کے  مکمل بائیکاٹ کے سوا دوسرا کوئي آپشن موجود نہیں ہے۔ ہلیری کلنٹن نے امریکی صدر باراک اوباما کے موقف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ایران کو بقول ان کے ایٹمی ہتھیاروں تک رسائی سے روکنے کا پابند ہے۔ہلیری کلنٹن نے دعوی کیا کہ ایران کے بارے میں امریکہ کا موقف یہ ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ ہمیشہ کے لئے کھلا نہیں رہے گا۔ہلیری کلنٹن کے بیانات سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ایران کے سلسلے میں  وائٹ ہاؤس کا رویہ نہ صرف مثبت نہیں ہے بلکہ وہ کشیدگي پیدا کرنے کے درپے ہے۔ اور یہ کہ امریکی حکام اس قسم کے بیانات سے یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ مذاکرات ایران کے موقف میں تبدیلی لانے کے ہدف سے انجام پائيں گے اور یورپ ایک واضح ہدف کے حصول کے لئے بائیکاٹ کے حربے سے استفادہ کرے گا۔ اس سلسلے میں وائٹ ہاؤس نے ہمیشہ  یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ یورپی یونین اس کی پالیسیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ کلنٹن نے کیتھرین ایشٹون کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقات میں اسی تناظر میں مذاکرات کئے گوکہ انھوں نے بروکنگز انسٹی ٹیوٹ میں اس بات کا اعتراف کیا کہ واشنگٹن اور یورپی ممالک کے درمیان اختلافات بھی پائے جاتے ہیں۔وائٹ ہاؤس کے حکام اس غلط مفروضے کی بنیاد پر ـ کہ ممکن ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں مصروف ہو ـ ایک غیر منطقی رویہ اپنا کر ایران کی معیشت کو ضرب لگانے کے مقصد سے ایران کے خلاف شدید پابندیاں عائد کرنے کے درپے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اس بات کے بھی مدعی ہیں کہ ایران ایٹمی توانائی کے پرامن استعمال کا راستہ نکال سکتا ہے۔ البتہ اس دو رخی پالیسی کا مقصد واضح ہے وہ یہ کہ امریکہ ایران مخالف یورپ کی غیر قانونی پابندیوں کو جائز ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ یورپ ایران کے ساتھ مذاکرات کے از سر آغاز کے لئے تیار ہے۔ البتہ امریکہ کو اس بات کا تجربہ ہے کہ اس طرح کے حربے ایران کے ایٹمی پروگرام پر اثر انداز نہیں ہوسکتے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلی ترین سطح حکام ایٹمی ہتھیاروں کے حرام ہونے کا اعلان کر چکے ہیں۔ فطری سی بات ہے کہ  مذاکرات کے فریقوں کو باہمی اعتماد سازی کے ساتھ این پی ٹی معاہدے کے دائرہ کار میں ایران کے حقوق کو تسلیم کرنا ہوگا۔      بشکریہ از ریڈيو تہرانواضح رہے کہ کلنٹن نے اس خطاب کے بعد نامہ نگاروں کے سوالات کا جواب دیا اور ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکہ کو ایران کی بڑھتی ہوئی طاقت اور عالمی اثر و رسوخ سے تشویش لاحق ہے۔ انھوں نے کہا: میں مختلف ممالک میں جاتی رہتی ہوں اور جہاں بھی جاتی ہوں ایران کی بات ہورہی ہے؛ ایرانیوں نے پوری دنیا میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا دیا ہے۔خبر کی سرخی میں "ہلیری کلنٹن کی آخری کوشش" کا مفہوم یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ نے انہیں ہٹا کر ان کا متبادل لانے کا فیصلہ کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110